ملبورن 3جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)آسٹریلیاکی قدیم مقامی آبادی سے تعلق رکھنے والی خاتون لنڈا برنی نے پارلیمانی ایوان زیریں کے الیکشن میں کامیابی کے ساتھ نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ جس مقامی نسلی گروہ سے ان کا تعلق ہے، وہ آسٹریلیا میں انتہائی پسماندہ ہے۔لنڈا برنی کو ایسی پہلی خاتون رکن پارلیمان ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے، جو آسٹریلیا کے قدیم مقامی باشندوں Aboriginals سے تعلق رکھتی ہیں۔کیریئر کا آغاز کرتے ہوئے پہلی مرتبہ سن 2003 میں نیو ساؤتھ ویلز کے علاقائی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ہفتے کے دن منعقدہ پارلیمانی الیکشن کے نتائج سامنے آنے کے بعد برنی کا کہنا تھا، یہ لمحہ آسٹریلیا کی تاریخ کے لیے انتہائی اہم ہے۔برنی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، جرمنی، اسرائیل، امریکا اور دیگر ممالک میں موجود میرے دوست مجھے مبارک باد کے پیغامات ارسال کر رہے ہیں۔ میرے لیے یہ ایک انتہائی خوشی کا وقت ہے۔لنڈا برنی نے سڈنی کے بارٹن نامی جس حلقے سے کامیابی حاصل کی ہے، وہاں تین برس قبل ہوئے انتخابات میں ایک لبرل امیدوار نے کامیابی حاصل کی تھی۔تاہم اُس سے قبل یہ حلقہ گزشتہ تین عشروں سے لیبر پارٹی کا ہی گڑھ تصور کیا جاتا رہا تھا۔آسٹریلیا کے Aboriginals کہلانے والے قدیم مقامی باشندوں کی آبادی کی رکن لنڈا برنی اسی نسلی گروہ سے تعلق رکھنے والی ایسی پہلی خاتون بھی ہیں، جنہوں نے چارلس سٹَرٹ یونیورسٹی سے ٹیچنگ کا باقاعدہ ایک ڈپلومہ حاصل کیا تھا۔ ان سے پہلے یہ ڈپلومہ اور کسی اَیب اوریجنل شہری نے کبھی حاصل نہیں کیا تھا۔آسٹریلیا میں اس نسلی گروپ کے افراد کو کئی مسائل کا سامنا ہے۔ اس کمیونٹی کو نہ صرف تعلیم اور ملازمت کے مناسب مواقع میسر نہیں ہیں بلکہ وہ سماجی مسائل اور امتیازی رویوں کا شکار بھی ہے۔